میں نے تری بستی کے یہ دیکھے ہیں نظارے
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
میں نے تری بستی کے یہ دیکھے ہیں نظارے
مہوے کے درختوں سے ٹپکتے ہیں ستارے
رہنے دے اسی طرح فلک کے یہ نظارے
دامن پہ چھٹک یوں کہ بکھر جائیں ستارے
موجوں کی روانی میں تجھے دیکھ رہا ہوں
بیٹھا ہوں بڑی دیر سے دریا کے کنارے
بڑھ جائے گی دو چار برس اور مری عمر
دو چار گھڑی تو جو مرے ساتھ گزارے
تم کیسے سپیرے ہو نہ منتر ہے نہ تریاق
جھولی میں لیے پھرتے ہو سانپوں کے پٹارے
ہم توڑ چکے ہیں جسے بے کار سمجھ کر
دیوار کھڑی تھی انہیں اینٹوں کے سہارے
اتنا تو بتانا کہ نمازی بھی کوئی ہے
اونچے ہیں ترے گاؤں کی مسجد کے منارے
اللہ بھی رزاق ہے بندہ بھی سخی ہے
مر جاتے ہیں عرفانؔ بہت بھوک کے مارے
مہوے کے درختوں سے ٹپکتے ہیں ستارے
رہنے دے اسی طرح فلک کے یہ نظارے
دامن پہ چھٹک یوں کہ بکھر جائیں ستارے
موجوں کی روانی میں تجھے دیکھ رہا ہوں
بیٹھا ہوں بڑی دیر سے دریا کے کنارے
بڑھ جائے گی دو چار برس اور مری عمر
دو چار گھڑی تو جو مرے ساتھ گزارے
تم کیسے سپیرے ہو نہ منتر ہے نہ تریاق
جھولی میں لیے پھرتے ہو سانپوں کے پٹارے
ہم توڑ چکے ہیں جسے بے کار سمجھ کر
دیوار کھڑی تھی انہیں اینٹوں کے سہارے
اتنا تو بتانا کہ نمازی بھی کوئی ہے
اونچے ہیں ترے گاؤں کی مسجد کے منارے
اللہ بھی رزاق ہے بندہ بھی سخی ہے
مر جاتے ہیں عرفانؔ بہت بھوک کے مارے
64727 viewsghazal • Urdu