ملال سر پہ قیامت اٹھانے لگتا ہے
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
ملال سر پہ قیامت اٹھانے لگتا ہے
وہ اٹھ کے جب مرے پہلو سے جانے لگتا ہے
وہ درد ہے کہ مداوا نہیں کوئی جس کا
وہ وقت ہے کہ خدا یاد آنے لگتا ہے
گداز دل ہے طبیعت ہے شبنمی اس کی
ذرا سی بات پر آنسو بہانے لگتا ہے
وہی گھڑی ہے اسے دیکھنے کے لائق جب
ہتھیلیوں میں وہ چہرہ چھپانے لگتا ہے
اسی لیے تو کوئی اس کا ہم جلیس نہیں
ہر ایک شخص کو وہ آزمانے لگتا ہے
اسی لیے تو اندھیرا ہے اس کی دنیا میں
چراغ تیز ہوا میں جلانے لگتا ہے
کہیں خلوص نہ پایا اسی لیے شاید
مرے خلوص کی قیمت لگانے لگتا ہے
وہاں پہنچ کے قدم اور جم گئے میرے
جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگانے لگتا ہے
وفا خلوص کی تعلیم کون دے عرفانؔ
ذرا سی عمر میں بچہ کمانے لگتا ہے
وہ اٹھ کے جب مرے پہلو سے جانے لگتا ہے
وہ درد ہے کہ مداوا نہیں کوئی جس کا
وہ وقت ہے کہ خدا یاد آنے لگتا ہے
گداز دل ہے طبیعت ہے شبنمی اس کی
ذرا سی بات پر آنسو بہانے لگتا ہے
وہی گھڑی ہے اسے دیکھنے کے لائق جب
ہتھیلیوں میں وہ چہرہ چھپانے لگتا ہے
اسی لیے تو کوئی اس کا ہم جلیس نہیں
ہر ایک شخص کو وہ آزمانے لگتا ہے
اسی لیے تو اندھیرا ہے اس کی دنیا میں
چراغ تیز ہوا میں جلانے لگتا ہے
کہیں خلوص نہ پایا اسی لیے شاید
مرے خلوص کی قیمت لگانے لگتا ہے
وہاں پہنچ کے قدم اور جم گئے میرے
جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگانے لگتا ہے
وفا خلوص کی تعلیم کون دے عرفانؔ
ذرا سی عمر میں بچہ کمانے لگتا ہے
61615 viewsghazal • Urdu