مسام سنگ سے اس دم پسینے خوں کے چلتے ہیں

By badiuzzaman-saharJanuary 19, 2024
مسام سنگ سے اس دم پسینے خوں کے چلتے ہیں
کفن بردوش جب ہم کوئے قاتل میں نکلتے ہیں
کہاں اہل جنوں چھاؤں میں زلفوں کی ٹہلتے ہیں
مشقت کی کڑی جب دھوپ ہوتی ہے تو چلتے ہیں


تمہاری انجمن میں صرف فرزانے بہلتے ہیں
جنوں کے حوصلے تو جا کے مقتل میں نکلتے ہیں
نسیم نو بہاری آ تجھے گلشن میں پہنچا دیں
یہ صحرا ہے یہاں تو صرف دیوانے ٹہلتے ہیں


ہمہ دم ناخداؤ بادبانوں پہ نظر رکھنا
نہ جانے کب یہ آب تہہ نشیں تیور بدلتے ہیں
وہ ہے کم ظرف جو دو گھونٹ پی کر ڈگمگا جائے
ہم عالی ظرف جتنا پیتے ہیں اتنا سنبھلتے ہیں


ہمارا دامن تر شیخ کے جبے سے کیا کم ہے
کہ اس تر دامنی میں مغفرت کے دیپ جلتے ہیں
اسے اندیشہ ہائے آبلہ پائی سحرؔ کیوں ہو
وہ جس کے نقش پا سے انگنت رستے نکلتے ہیں


34749 viewsghazalUrdu