معصیت راہ کی دیوار ہوئی جاتی ہے

By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
معصیت راہ کی دیوار ہوئی جاتی ہے
اب ڈگر اور بھی پر خار ہوئی جاتی ہے
وہ قناعت ہے طبیعت میں کہ وقت رخصت
اک نظر حاصل دیدار ہوئی جاتی ہے


کون ہے نغمہ سرا آج کہ روح مردہ
رقص کرتی ہے تو سرشار ہوئی جاتی ہے
عقل رقبہ ہے کہ آباد ہوا جاتا ہے
دل عمارت ہے کہ مسمار ہوئی جاتی ہے


دو رخے پن پہ ذرا ہونے لگا کیا مائل
اک حمیت ہے کہ بیدار ہوئی جاتی ہے
کیا ہوا تجھ کو مری ہمت دشوار پسند
ذمہ داری بھی گراں بار ہوئی جاتی ہے


کون سے در پہ پٹک آؤں سر نا اہلاں
خود پسندی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے
کل یہی ترک تعلق پہ مصر تھی ثاقبؔ
آج دیکھو یہی دلدار ہوئی جاتی ہے


66166 viewsghazalUrdu