موسم گریۂ سرشار میں رو پڑتے ہیں
By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
موسم گریۂ سرشار میں رو پڑتے ہیں
خوش نگر کوچہ اغیار میں رو پڑتے ہیں
درد جب حد سے گزر جائے تو ہم اہل سخن
مسکراتے ہوئے اشعار میں رو پڑتے ہیں
کتنا بے ارتھ ہے یہ آدمیوں کا جنگل
لوگ صد رونق بازار میں رو پڑتے ہیں
دھوپ میں جب نہیں دکھتے ہیں شجر اڑتے پرند
بیٹھ کر سایۂ دیوار میں رو پڑتے ہیں
خاک ہو جاتے ہیں کچھ پھول چمن زاروں میں
اور کچھ ٹوٹ کے گلزار میں رو پڑتے ہیں
منتظر جس کے لیے تھی یہ نظر سالہا سال
اس سے ملتے ہوئے بے کار میں رو پڑتے ہیں
تنگ ہو جاتی ہے جب ساری زمیں آدم زاد
سر جھکا کر تری سرکار میں رو پڑتے ہیں
خوش نگر کوچہ اغیار میں رو پڑتے ہیں
درد جب حد سے گزر جائے تو ہم اہل سخن
مسکراتے ہوئے اشعار میں رو پڑتے ہیں
کتنا بے ارتھ ہے یہ آدمیوں کا جنگل
لوگ صد رونق بازار میں رو پڑتے ہیں
دھوپ میں جب نہیں دکھتے ہیں شجر اڑتے پرند
بیٹھ کر سایۂ دیوار میں رو پڑتے ہیں
خاک ہو جاتے ہیں کچھ پھول چمن زاروں میں
اور کچھ ٹوٹ کے گلزار میں رو پڑتے ہیں
منتظر جس کے لیے تھی یہ نظر سالہا سال
اس سے ملتے ہوئے بے کار میں رو پڑتے ہیں
تنگ ہو جاتی ہے جب ساری زمیں آدم زاد
سر جھکا کر تری سرکار میں رو پڑتے ہیں
85325 viewsghazal • Urdu