ماضی کے پرستاروں میں مجھ کو نہ گنا کر

By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
ماضی کے پرستاروں میں مجھ کو نہ گنا کر
میں حال ہوں تو حال کے احوال کہا کر
یہ عشق ہے اک آن میں لذت نہیں ملتی
قسطوں میں اسے تو مری اے جان چکھا کر


مظلوم ہواؤں کی خطا کوئی نہیں ہے
روشن ہوئے کچھ لوگ چراغوں کو بجھا کر
یہ کیسی فصاحت کہ سمجھ میں نہیں آتی
تحریر محبت ذرا آسان لکھا کر


کیا غور سے دیکھا ہے کبھی چاند کو احمرؔ
دیکھے ہے تمہیں خود کو وہ بادل میں چھپا کر
89874 viewsghazalUrdu