میرا تو کوئی شعر کسی بحر میں نہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
میرا تو کوئی شعر کسی بحر میں نہیں
جب تک ہر ایک بحر مری لہر میں نہیں
جان سخن جو ہے ترے ہونٹھوں کے شہد میں
ایسی مٹھاس اور کسی زہر میں نہیں


شرمندہ کیوں کرے کوئی سورج کی آگ کو
پیتا ہوں میں شراب پہ دوپہر میں نہیں
عشاق آؤ کرتے ہیں جشن برہنگی
سب کام پر گئے ہیں کوئی شہر میں نہیں


اے نیک روح آ کہ کریں جسم کے گناہ
اللہ آج کیفیت قہر میں نہیں
احساسؔ لوٹ آئیے آپ اپنے دشت سے
ایسا ہے کون دشت جو اس شہر میں نہیں


86167 viewsghazalUrdu