میری آمد پہ سجاتے تھے جو رستہ میرا
By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
میری آمد پہ سجاتے تھے جو رستہ میرا
دل کیا ہے انہی ہاتھوں نے شکستہ میرا
بھیڑ کو اپنے خیالات بتا سکتا نہیں
ورنہ خوں پانی سے ہو جائے گا سستا میرا
کیسے تہذیب عزا داری سمجھ پائے گا
جس نے دیکھا ہی نہیں ماتمی دستہ میرا
بس اسی زعم میں برباد کیا ہے خود کو
موت کے کام نہ آئے تن خستہ میرا
روٹی ہوتی نہ تھی اور میری جماعت کے دوست
توڑ دیتے تھے بھرم کھول کے بستہ میرا
لوٹ کے آ جا مجھے چھوڑ کے جانے والے
دل تری دید کو اب بھی ہے ترستا میرا
گر مجھے یار کے پہلو میں جگہ مل جاتی
قہر خود پر نہ شب و روز برستا میرا
غیر آباد علاقے بھی بسائے میں نے
مجھ سے لیکن دل ویراں نہیں بستا میرا
پھر کبھی ہاتھ نہ اٹھ پائے دعا کی خاطر
اتنا دشمن نے کیا پہلو شکستہ میرا
میں نے جب دودھ پلایا تھا محبت سے اسے
کیسے ممکن تھا مجھے سانپ نہ ڈستا میرا
دل کیا ہے انہی ہاتھوں نے شکستہ میرا
بھیڑ کو اپنے خیالات بتا سکتا نہیں
ورنہ خوں پانی سے ہو جائے گا سستا میرا
کیسے تہذیب عزا داری سمجھ پائے گا
جس نے دیکھا ہی نہیں ماتمی دستہ میرا
بس اسی زعم میں برباد کیا ہے خود کو
موت کے کام نہ آئے تن خستہ میرا
روٹی ہوتی نہ تھی اور میری جماعت کے دوست
توڑ دیتے تھے بھرم کھول کے بستہ میرا
لوٹ کے آ جا مجھے چھوڑ کے جانے والے
دل تری دید کو اب بھی ہے ترستا میرا
گر مجھے یار کے پہلو میں جگہ مل جاتی
قہر خود پر نہ شب و روز برستا میرا
غیر آباد علاقے بھی بسائے میں نے
مجھ سے لیکن دل ویراں نہیں بستا میرا
پھر کبھی ہاتھ نہ اٹھ پائے دعا کی خاطر
اتنا دشمن نے کیا پہلو شکستہ میرا
میں نے جب دودھ پلایا تھا محبت سے اسے
کیسے ممکن تھا مجھے سانپ نہ ڈستا میرا
97631 viewsghazal • Urdu