مری ناکام چالوں پر وہ ایسے مسکراتا ہے
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
مری ناکام چالوں پر وہ ایسے مسکراتا ہے
کہ گویا زخم دیتا ہے وہ پھر مرہم لگاتا ہے
وہ ہاتھوں کی لکیریں دیکھ کر قسمت بتاتا ہے
تصور میں امیدوں کا حسیں دیپک جلاتا ہے
کسی کو قتل کرنے کا ہنر بھی خوب آتا ہے
وہ اپنی زلف میں اک لام سا خنجر بناتا ہے
امیر شہر یہ پوچھے کسی مفلس کے بچے سے
کتابیں بیچ کر کیسے وہ اپنا گھر چلاتا ہے
اگر ہے حوصلہ احمرؔ تو منزل کی طرف دیکھو
وگرنہ شوق بھی رستے میں ہمت ہار جاتا ہے
کہ گویا زخم دیتا ہے وہ پھر مرہم لگاتا ہے
وہ ہاتھوں کی لکیریں دیکھ کر قسمت بتاتا ہے
تصور میں امیدوں کا حسیں دیپک جلاتا ہے
کسی کو قتل کرنے کا ہنر بھی خوب آتا ہے
وہ اپنی زلف میں اک لام سا خنجر بناتا ہے
امیر شہر یہ پوچھے کسی مفلس کے بچے سے
کتابیں بیچ کر کیسے وہ اپنا گھر چلاتا ہے
اگر ہے حوصلہ احمرؔ تو منزل کی طرف دیکھو
وگرنہ شوق بھی رستے میں ہمت ہار جاتا ہے
93090 viewsghazal • Urdu