ملے ہیں زخم جو ان سے اسے سجاؤں گا
By amir-masoodFebruary 5, 2024
ملے ہیں زخم جو ان سے اسے سجاؤں گا
میں اب کسی کو بھی پائل نہیں دلاؤں گا
تمہارے نام کے آگے لکھا تھا نام مرا
میں اپنے ہاتھوں سے اس کو ابھی مٹاؤں گا
کہو یہ اس سے کہ کر لے نکاح چاہت سے
میں اب کسی کو بھی دلہن نہیں بناؤں گا
سمیٹ رکھا ہے باہوں میں اس کو میری طرح
یہ فن تو اب میں کسی کو نہیں سکھاؤں گا
چلا گیا ہے جو غیروں کی بات سن کے اسے
میں کس مزاج سے واپس اسے بلاؤں گا
وہ ہو چکے تھے کسی اور کے قریب قریب
سمجھ رہے تھے میں یہ بھی سمجھ نہ پاؤں گا
لگے گا سب کو کہ میں نے ہی اس کو چھوڑا ہے
میں اس طرح سے زمانہ کو سب بتاؤں گا
میں اب کسی کو بھی پائل نہیں دلاؤں گا
تمہارے نام کے آگے لکھا تھا نام مرا
میں اپنے ہاتھوں سے اس کو ابھی مٹاؤں گا
کہو یہ اس سے کہ کر لے نکاح چاہت سے
میں اب کسی کو بھی دلہن نہیں بناؤں گا
سمیٹ رکھا ہے باہوں میں اس کو میری طرح
یہ فن تو اب میں کسی کو نہیں سکھاؤں گا
چلا گیا ہے جو غیروں کی بات سن کے اسے
میں کس مزاج سے واپس اسے بلاؤں گا
وہ ہو چکے تھے کسی اور کے قریب قریب
سمجھ رہے تھے میں یہ بھی سمجھ نہ پاؤں گا
لگے گا سب کو کہ میں نے ہی اس کو چھوڑا ہے
میں اس طرح سے زمانہ کو سب بتاؤں گا
37966 viewsghazal • Urdu