مزاج رکھتے ہو شاعرانہ تو پاس آنا

By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
مزاج رکھتے ہو شاعرانہ تو پاس آنا
سخن سرائی ہو معجزانہ تو پاس آنا
طویل قربت میں عیب جوئی کے مسئلے ہیں
سو دور رہ کر ہو پاس آنا تو پاس آنا


فرار ہونے کو میری یادوں کی دسترس سے
نہ ڈھونڈ پاؤ کوئی بہانہ تو پاس آنا
بھرم ہے تم کو تمہارے در پر کھڑے ملیں گے
جو میری راہوں پہ چل کے آنا تو پاس آنا


کہ جھوٹ مکر و فریب سے ہے گریز مجھ کو
جو بات کرتے ہو منصفانہ تو پاس آنا
خموش دریا کے پانیوں میں بھنور ہیں کتنے
اگر یہ چاہو تم آزمانا تو پاس آنا


مسرتوں نے کہا تھا ہنس کر ایازؔ اک دن
اداسیوں سے جب اوب جانا تو پاس آنا
71909 viewsghazalUrdu