محبت جس کو کہتے ہیں کبھی باطل نہیں ہوتی

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
محبت جس کو کہتے ہیں کبھی باطل نہیں ہوتی
فریب عقل ہو جائے فریب دل نہیں ہوتی
وہ راہی ہوں کہ جس کے سامنے منزل نہیں ہوتی
یہی آوارگی شاید کسی قابل نہیں ہوتی


تعجب ہے کسی صورت نظر قائل نہیں ہوتی
طبیعت تو تمہاری یاد سے غافل نہیں ہوتی
خموشی ہو یا گویائی بہر حالت زباں اپنی
نہیں ہوتی تمہارے نام سے غافل نہیں ہوتی


تمنا ڈوبنا ہی جانتی ہے بحر الفت میں
یہ وہ کشتی ہے جو شرمندۂ ساحل نہیں ہوتی
بہر صورت میسر ہے تری قربت بھی خلوت بھی
مگر دیدار کی دولت کبھی حاصل نہیں ہوتی


نہیں جھکتا کبھی سجدے میں سر اہل طریقت کا
گناہوں کی فضا میں بے خودی شامل نہیں ہوتی
دم طوفاں ہلا دیتی ہے دل مغرور موجوں کے
دعا میں اتنی گہرائی لب ساحل نہیں ہوتی


ہمیشہ شادؔ رکھتی ہے محبت ہم خیالوں کی
مگر یہ پارساؤں میں کبھی حاصل نہیں ہوتی
56556 viewsghazalUrdu