محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے
By wasim-nadirJanuary 5, 2024
محبت کا کسی صورت کوئی پہلو نہیں نکلے
سیاست چاہتی ہے پھول سے خوشبو نہیں نکلے
سنا ہے درد گھٹ جاتا ہے جب انسان روتا ہے
مگر وہ کیا کریں جس کے کبھی آنسو نہیں نکلے
نہ جانے مصلحت کی کون سی چادر میں لپٹے ہیں
اندھیرا بڑھ گیا لیکن ابھی جگنو نہیں نکلے
محبت کے مسافر کو ترستی ہی رہی بستی
کبھی صوفی نہیں نکلے کبھی سادھو نہیں نکلے
تھکن سے چور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے
مگر اب تک تری تصویر سے بازو نہیں نکلے
سیاست چاہتی ہے پھول سے خوشبو نہیں نکلے
سنا ہے درد گھٹ جاتا ہے جب انسان روتا ہے
مگر وہ کیا کریں جس کے کبھی آنسو نہیں نکلے
نہ جانے مصلحت کی کون سی چادر میں لپٹے ہیں
اندھیرا بڑھ گیا لیکن ابھی جگنو نہیں نکلے
محبت کے مسافر کو ترستی ہی رہی بستی
کبھی صوفی نہیں نکلے کبھی سادھو نہیں نکلے
تھکن سے چور ہو کر گر گیا بستر پہ میں اپنے
مگر اب تک تری تصویر سے بازو نہیں نکلے
13324 viewsghazal • Urdu