محبتوں کی شاخ پہ جو کھل رہا گلاب ہے
By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
محبتوں کی شاخ پہ جو کھل رہا گلاب ہے
کسی نگاہ عشق کی دعائے مستجاب ہے
تری نگاہ مست کا کوئی تو آئنہ بنے
یہ کیا کہ چشم نم میں بس کہ آب ہے سراب ہے
الجھ گیا نہ شعبدہ گروں کے مکر چکر میں
کہا نہیں تھا کیا تجھے یہ راستہ خراب ہے
صدائے عشق مرحبا صدائے کن زہ نصیب
خدا کے ہم سب اور عشق ہمارا انتخاب ہے
ہماری دھڑکنیں ذرا ٹھہر گئیں تو کیا ہوا
ہمارے بازوؤں کو تیرا لمس دستیاب ہے
کبھی تو اس پہ کان رکھ کبھی تو اس کو پڑھ ذرا
صراط مستقیم کی جو آخری کتاب ہے
بلا کی وحشتیں لئے بلا کی نغمگی لئے
زمین دل پہ روز شام اترتا ماہتاب ہے
کسی نگاہ عشق کی دعائے مستجاب ہے
تری نگاہ مست کا کوئی تو آئنہ بنے
یہ کیا کہ چشم نم میں بس کہ آب ہے سراب ہے
الجھ گیا نہ شعبدہ گروں کے مکر چکر میں
کہا نہیں تھا کیا تجھے یہ راستہ خراب ہے
صدائے عشق مرحبا صدائے کن زہ نصیب
خدا کے ہم سب اور عشق ہمارا انتخاب ہے
ہماری دھڑکنیں ذرا ٹھہر گئیں تو کیا ہوا
ہمارے بازوؤں کو تیرا لمس دستیاب ہے
کبھی تو اس پہ کان رکھ کبھی تو اس کو پڑھ ذرا
صراط مستقیم کی جو آخری کتاب ہے
بلا کی وحشتیں لئے بلا کی نغمگی لئے
زمین دل پہ روز شام اترتا ماہتاب ہے
94733 viewsghazal • Urdu