محبتوں کو کہیں سے مدد نہیں ملتی

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
محبتوں کو کہیں سے مدد نہیں ملتی
یہ جنگ ایسی ہے جس میں رسد نہیں ملتی
یہ خواب مر کے بھی آنکھوں میں رکھے رہتے ہیں
یہ لاشے ایسے ہیں جن کو لحد نہیں ملتی


یہ نفرتوں کی مسافت طویل ہے کتنی
تمام عمر چلو پھر بھی حد نہیں ملتی
کسی کسی کا لہو آنسوؤں میں بہتا ہے
محبتوں کی سبھی کو سند نہیں ملتی


میں ایک حرف غلط ہوں ثبوت میں اس کے
کوئی دلیل اسے مستند نہیں ملتی
47081 viewsghazalUrdu