مجھے اپنی بزم حیات میں ابھی غم اٹھانے کا شوق ہے

By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
مجھے اپنی بزم حیات میں ابھی غم اٹھانے کا شوق ہے
یہ تو اس دوانے کی بات ہے جسے ڈوب جانے کا شوق ہے
تری ہر نظر میں ہیں شوخیاں مری ہر نگاہ میں نرمیاں
تجھے زخم دینے کی عادتیں مجھے زخم کھانے کا شوق ہے


مرے دل پہ گرتی ہیں بجلیاں یوں نہ مسکرا جو کہا گیا
ترا یہ جواب کہ کیا کروں مجھے مسکرانے کا شوق ہے
مری زندگی کی یہ ریت تھی کہ قدم قدم مری جیت تھی
میں تو جیت جیت کے تھک چکا مجھے ہار جانے کا شوق ہے


مجھے مسجدوں میں نہ لے چلو مجھے مندروں سے الگ رکھو
ابھی حسن کے ہی حضور میں مجھے سر جھکانے كا شوق ہے
59947 viewsghazalUrdu