مجھے یہ ڈر ہے کہ اب بس یہی نہ کر بیٹھوں

By aadarsh-dubeyFebruary 25, 2024
مجھے یہ ڈر ہے کہ اب بس یہی نہ کر بیٹھوں
تری خوشی میں کہیں خودکشی نہ کر بیٹھوں
وہ سن کے اس لیے مجھ کو جواب دیتا نہیں
سوال اس سے کوئی آخری نہ کر بیٹھوں


میں جس کو ڈھونڈ رہا تھا وہ مل گیا مجھ میں
تمام شکوہ گلے آج ہی نہ کر بیٹھوں
ہر ایک سمت مجھے تو دکھائی دیتا ہے
میں ایک عشق کے پیچھے کئی نہ کر بیٹھوں


بڑے جتن سے بنایا ہے اس نے جس کو خدا
کہیں میں چھو کے اسے آدمی نہ کر بیٹھوں
چلے بھی آؤ کے اک روز یہ بھی ممکن ہے
تمہارے نام میں یہ زندگی نہ کر بیٹھوں


کچھ اس لئے بھی توجہ طلب زیادہ ہوں
جو کہہ رہا ہوں کہیں واقعی نہ کر بیٹھوں
43478 viewsghazalUrdu