منہ میں جب تک زبان باقی ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
منہ میں جب تک زبان باقی ہے
آپ کی داستان باقی ہے
تیر ترکش کمان باقی ہے
اس کا مطلب اڑان باقی ہے


آخری وقت ہے عبادت کا
بس محبت میں جان باقی ہے
جی نہیں لگ رہا پڑھائی میں
اور ابھی امتحان باقی ہے


وہ اسی پر پھراتا ہے نشتر
زخم کا جو نشان باقی ہے
چاہے ملبے کی شکل میں ہی سہی
تیرا میرا مکان باقی ہے


یار اسے اور ڈوب جانے دے
تھوڑا سا بادبان باقی ہے
لے تو سکتا ہوں نام قاتل کا
مسئلہ یہ ہے جان باقی ہے


ہم نتیجے کا انتظار کریں
یا ابھی امتحان باقی ہے
80094 viewsghazalUrdu