مقدر کا اگر مقدور ہوتا

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
مقدر کا اگر مقدور ہوتا
غم الفت سے کوسوں دور ہوتا
مزاج عشق سے معمور ہوتا
تو شاید حسن بھی مجبور ہوتا


لطافت میں نہ اتنا چور ہوتا
تو چٹکی میں بتوں کے نور ہوتا
جو دل رکھنا تمہیں منظور ہوتا
نہ یوں افسانۂ منصور ہوتا


جو زہد ہوتا اگر دنیا میں لازم
تو عقبیٰ کا بھی یہ دستور ہوتا
کشش رکھتی اگر جلوؤں کی فطرت
بہ چشم منتظر کیوں طور ہوتا


نہ ہوتا بندگی پر کوئی مائل
اگر ہوتا جنوں بھرپور ہوتا
نہ اٹھتی آنکھ عشق خوش نشیں کی
نہ کوئی حسن پر مغرور ہوتا


جو دل ہو کر تمہارا شادؔ رہتا
تو نام عاشقی کافور ہوتا
61879 viewsghazalUrdu