مشاعرے نظر آتے ہیں منڈیوں کی طرح
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
مشاعرے نظر آتے ہیں منڈیوں کی طرح
بلائے جاتے ہیں ہم جن میں رنڈیوں کی طرح
یہ اہتمام تو سارا ہے مال و شہرت کا
لگائے جاتے ہیں اشعار جھنڈیوں کی طرح
پھر اب کے دھوکے سے مارا گیا پتامۂ عشق
دکھا کے حسن بدن کا شکھنڈیوں کی طرح
لباس جسم تو ہے مستقل لباس عدم
وجود کو تو پہنتے ہیں بنڈیوں کی طرح
ہوس کے مارے ہوئے لوگ مارتے ہیں ہمیں
محبتوں کے ترازو کی ڈنڈیوں کی طرح
تمہیں لگائیں گے اک ضرب انکسار کہ بس
کبھی جو سامنے آئے گھمنڈیوں کی طرح
بلائے جاتے ہیں ہم جن میں رنڈیوں کی طرح
یہ اہتمام تو سارا ہے مال و شہرت کا
لگائے جاتے ہیں اشعار جھنڈیوں کی طرح
پھر اب کے دھوکے سے مارا گیا پتامۂ عشق
دکھا کے حسن بدن کا شکھنڈیوں کی طرح
لباس جسم تو ہے مستقل لباس عدم
وجود کو تو پہنتے ہیں بنڈیوں کی طرح
ہوس کے مارے ہوئے لوگ مارتے ہیں ہمیں
محبتوں کے ترازو کی ڈنڈیوں کی طرح
تمہیں لگائیں گے اک ضرب انکسار کہ بس
کبھی جو سامنے آئے گھمنڈیوں کی طرح
29311 viewsghazal • Urdu