نہ بچہ جانتے ہیں اور نہ مائیں جانتی ہیں
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
نہ بچہ جانتے ہیں اور نہ مائیں جانتی ہیں
کہ بس گھر کے چراغوں کو ہوائیں جانتی ہیں
بہت سے مردہ جسموں میں بھی ہوتی ہے بہت جان
اسے چنتائیں جانیں یا چتائیں جانتی ہیں
لباسوں کے زباں ہوتی تو ان سے پوچھتے ہم
بدن کا حسن صرف اس کی قبائیں جانتی ہیں
جو ہے اردھانگنی کھلتے کہاں پورے ہم اس پر
ہمیں پورنانگنی بس فاحشائیں جانتی ہیں
ہماری بت پرستی سے خفا کتنی ہے مسجد
یہ بت خانے کی باغی آستھائیں جانتی ہیں
یزیدی یا حسینی کس طرف کی ہیں یہ روحیں
بدن میں ہونے والی کربلائیں جانتی ہیں
ترا دل یوں اچانک بجھ گیا کیوں فرحت احساسؔ
تجھے تو شہر کی سب دل ربائیں جانتی ہیں
کہ بس گھر کے چراغوں کو ہوائیں جانتی ہیں
بہت سے مردہ جسموں میں بھی ہوتی ہے بہت جان
اسے چنتائیں جانیں یا چتائیں جانتی ہیں
لباسوں کے زباں ہوتی تو ان سے پوچھتے ہم
بدن کا حسن صرف اس کی قبائیں جانتی ہیں
جو ہے اردھانگنی کھلتے کہاں پورے ہم اس پر
ہمیں پورنانگنی بس فاحشائیں جانتی ہیں
ہماری بت پرستی سے خفا کتنی ہے مسجد
یہ بت خانے کی باغی آستھائیں جانتی ہیں
یزیدی یا حسینی کس طرف کی ہیں یہ روحیں
بدن میں ہونے والی کربلائیں جانتی ہیں
ترا دل یوں اچانک بجھ گیا کیوں فرحت احساسؔ
تجھے تو شہر کی سب دل ربائیں جانتی ہیں
93947 viewsghazal • Urdu