نہ یہ ممکن کہ اپنے درد کو تحلیل کر دوں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
نہ یہ ممکن کہ اپنے درد کو تحلیل کر دوں
نہ یہ ممکن کہ اس بے درد کو تبدیل کر دوں
میں آنکھوں میں اک ایسی نیند لانا چاہتا ہوں
جسے دیکھوں اسے اک خواب میں تبدیل کر دوں


یہ سارا شہر آپ اپنی ہوا میں ہی بکھر جائے
اگر اپنی طرف سے میں ذرا سی ڈھیل کر دوں
مجھے تنہائی نے اتنا زیادہ کر دیا ہے
جہاں چاہوں وہیں اک انجمن تشکیل کر دوں


مرے بس میں نہیں ہے ورنہ تا روز قیامت
میں اس دنیا کے دفتر میں ابھی تعطیل کر دوں
ابھی مس ہی ہوئے ہیں تیرے ہونٹھوں سے مرے ہونٹھ
اجازت ہو تو اس اجمال کی تفصیل کر دوں


50678 viewsghazalUrdu