نئے دریا سے رشتہ ہو گیا ہے
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
نئے دریا سے رشتہ ہو گیا ہے
سمندر اور گہرا ہو گیا ہے
نہ جانے ظاہر و باطن کہاں ہیں
مرا دونوں سے جھگڑا ہو گیا ہے
مری آنکھیں بھی آنکھیں ہو گئی ہیں
ترا چہرہ بھی چہرہ ہو گیا ہے
کئی دیواریں نیچی رہ گئی ہیں
کئی مینار اونچا ہو گیا ہے
میں اب برباد ہو سکتا ہوں خود بھی
تمہارا کام پورا ہو گیا ہے
ذرا غالب سے جھک جھک ہو گئی تھی
طرف داروں کا حملہ ہو گیا ہے
وہ اشکوں سے چکانا پڑ رہا ہے
مناظر کا جو قرضہ ہو گیا ہے
ہنسی میں دم نہیں ہے چارہ گر کی
کوئی بیمار اچھا ہو گیا ہے
سمندر اور گہرا ہو گیا ہے
نہ جانے ظاہر و باطن کہاں ہیں
مرا دونوں سے جھگڑا ہو گیا ہے
مری آنکھیں بھی آنکھیں ہو گئی ہیں
ترا چہرہ بھی چہرہ ہو گیا ہے
کئی دیواریں نیچی رہ گئی ہیں
کئی مینار اونچا ہو گیا ہے
میں اب برباد ہو سکتا ہوں خود بھی
تمہارا کام پورا ہو گیا ہے
ذرا غالب سے جھک جھک ہو گئی تھی
طرف داروں کا حملہ ہو گیا ہے
وہ اشکوں سے چکانا پڑ رہا ہے
مناظر کا جو قرضہ ہو گیا ہے
ہنسی میں دم نہیں ہے چارہ گر کی
کوئی بیمار اچھا ہو گیا ہے
16652 viewsghazal • Urdu