نئی ہواؤں کے ہم راہ چل رہا ہوں میں

By farooq-noorFebruary 6, 2024
نئی ہواؤں کے ہم راہ چل رہا ہوں میں
بدل رہا ہے زمانہ بدل رہا ہوں میں
یہ کیسی آگ ہے اس کے بدن سے اٹھتی ہوئی
کہ اس کو دیکھ رہا ہوں تو جل رہا ہوں میں


انہیں یہ فکر نہیں ہے کہ بجھ رہے ہیں وہ
انہیں تو خوف ہے اس کا کہ جل رہا ہوں میں
مرے عروج کی جس نے دعائیں مانگی تھیں
خبر کرو ذرا اس کو کہ ڈھل رہا ہوں میں


جو میرے نام سے ہوتا ہے اب شکن آلود
کئی برس اسی ماتھے کا بل رہا ہوں میں
نہ منزلوں کا پتہ ہے نہ راستوں کا سراغ
بس اک تلاش ہے تیری سو چل رہا ہوں میں


ازل سے نورؔ ہے مجھ کو سکون دل کی تلاش
اور اس تلاش میں بس گھر بدل رہا ہوں میں
60745 viewsghazalUrdu