نئی نسلوں سے اس کو بھی کبھی عزت نہیں ملتی

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
نئی نسلوں سے اس کو بھی کبھی عزت نہیں ملتی
بزرگوں سے جسے تہذیب کی دولت نہیں ملتی
محبت کے لیے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں
کسی کو موت سے پہلے کبھی جنت نہیں ملتی


ستم یہ ہے کہ میں جن کے لیے مصروف رہتا ہوں
انہیں سے بات کرنے کی مجھے فرصت نہیں ملتی
جنون عشق ہو تو خاک میں مل جانا پڑتا ہے
گھروں میں بیٹھے رہنے سے کبھی شہرت نہیں ملتی


عجب اک بے یقینی نے مرا دل گھیر رکھا ہے
کوئی بھی ہاتھ ہو سر پر مجھے راحت نہیں ملتی
14958 viewsghazalUrdu