نیند پلکوں کے کناروں پہ دھری رہتی ہے
By hina-ambareenFebruary 6, 2024
نیند پلکوں کے کناروں پہ دھری رہتی ہے
خواب میں سبز جزیرے کی پری رہتی ہے
جھاڑ جھنکار سا بکھرا ہوا رہتا ہے دماغ
شاخ دل پر کئی یادوں سے ہری رہتی ہے
ذہن اک ہجر کی وحشت میں دھنسا رہتا ہے
جیب تنہائی کے سکوں سے بھری رہتی ہے
اس کی ٹیبل پہ کئی پھول سجے رہتے ہیں
فرش پر پاؤں کے رکھنے کو دری رہتی ہے
اس کو فرصت نہیں سننے کو مری بات کئی
اس لیے ذہن پہ آشفتہ سری رہتی ہے
دل دھڑک اٹھتا ہے ہر چاپ پہ شاید وہ ہو
آنکھ دروازے پہ ہر وقت دھری رہتی ہے
دیکھنے کو تو نظر آتی ہے مضبوط بہت
ایک کمسن مگر اندر سے ڈری رہتی ہے
خواب میں سبز جزیرے کی پری رہتی ہے
جھاڑ جھنکار سا بکھرا ہوا رہتا ہے دماغ
شاخ دل پر کئی یادوں سے ہری رہتی ہے
ذہن اک ہجر کی وحشت میں دھنسا رہتا ہے
جیب تنہائی کے سکوں سے بھری رہتی ہے
اس کی ٹیبل پہ کئی پھول سجے رہتے ہیں
فرش پر پاؤں کے رکھنے کو دری رہتی ہے
اس کو فرصت نہیں سننے کو مری بات کئی
اس لیے ذہن پہ آشفتہ سری رہتی ہے
دل دھڑک اٹھتا ہے ہر چاپ پہ شاید وہ ہو
آنکھ دروازے پہ ہر وقت دھری رہتی ہے
دیکھنے کو تو نظر آتی ہے مضبوط بہت
ایک کمسن مگر اندر سے ڈری رہتی ہے
46494 viewsghazal • Urdu