نور پیہم سفر میں رہتا ہے

By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
نور پیہم سفر میں رہتا ہے
اس کا چہرا نظر میں رہتا ہے
اس سے منزل کی عظمتیں پوچھو
جو مسلسل سفر میں رہتا ہے


پائے نازک سنبھال کر رکھنا
دل تری رہگزر میں رہتا ہے
مجھ میں خامی تلاشنے والے
عیب تو ہر بشر میں رہتا ہے


خیریت پوچھی شکریہ ورنہ
کون کس کی خبر میں رہتا ہے
فائدہ کیا لہو جلانے سے
جب اندھیرا ہی گھر میں رہتا ہے


کیا کروں لے کے اس حویلی کو
میرا ماضی کھنڈر میں رہتا ہے
وہ بلندی کو چھو نہیں سکتا
جو اگر اور مگر میں رہتا ہے


22601 viewsghazalUrdu