آرزو مٹ نہ سکی عمر بسر ہونے تک

By birj-lal-raanaFebruary 26, 2024
آرزو مٹ نہ سکی عمر بسر ہونے تک
شمع جلتی رہی بجھ بجھ کے سحر ہونے تک
عالم شاخ و گل و برگ چمن سے پوچھو
ایک دانے پہ جو گزری ہے ثمر ہونے تک


صبر کہتا ہے کہ اب نالوں کو رخصت دیجے
ضبط کہتا ہے کرو صبر اثر ہونے تک
ٹمٹماتا ہے سر شام ہی سے دل کا چراغ
جانے کیا ہوگا شب غم کی سحر ہونے تک


کشتیٔ عقل سلامت ہے یم ہستی میں
موجۂ درد محبت کے گزر ہونے تک
میری ہستی کا ہر اک نقش تھا پھیکا پھیکا
عشق میں خون دل و خون جگر ہونے تک


کتنے تاروں نے سحر شب کو بنانا چاہا
خود مگر ڈوب گئے نور سحر ہونے تک
غنچہ کھلنے کو ہے محتاج شعاع خورشید
دل نہ پروان چڑھا ان کی نظر ہونے تک


جانے کتنے ہی ابھی حشر اٹھیں گے رعناؔ
خاک کے ذروں کے خورشید و قمر ہونے تک
48897 viewsghazalUrdu