پہلے اک پردہ ہمارے سامنے ڈالا گیا

By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
پہلے اک پردہ ہمارے سامنے ڈالا گیا
اس طرح دل کش نظارہ آنکھ سے ٹالا گیا
مستقل آنکھوں میں اتنی روشنی ڈالی گئی
جس کی پھر بینائی سے بینائی کا ہالہ گیا


چاندنی بھی تیرگی میں تیرگی سے جا ملی
جگنوؤں کو پیکر ظلمت میں یوں ڈھالا گیا
دل کے ہر گوشے میں پہلے اشک خوں بوئے گئے
تب کہیں جا کر دلوں میں عشق کو پالا گیا


جسم کے سارے عناصر منتشر ہونے لگے
جب محبت کو حصار عقل سے ٹالا گیا
آخرش جب راز سارے فاش ہونے والے تھے
تب کہانی میں نیا کردار اک ڈالا گیا


38570 viewsghazalUrdu