پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے
ہمیں اڑنے دیا جائے ہمارے پر نکل آئے
محبت سے کسی نے جب سفر کی مشکلیں پوچھیں
کئی کانٹے ہمارے پاؤں سے باہر نکل آئے


بہت سے راز بھی آئیں گے عالی جاہ پھر باہر
خفا ہو کر حویلی سے اگر نوکر نکل آئے
سفر میں زندگی کے میں ذرا سا لڑکھڑایا تھا
مجھے ٹھوکر لگانے پھر کئی پتھر نکل آئے


بظاہر ڈائری کے سارے ہی اوراق سادہ تھے
انہیں جب غور سے دیکھا کئی منظر نکل آئے
73645 viewsghazalUrdu