پھول کھلتے ہیں تو کانٹوں کو ہنسی آتی ہے
By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
پھول کھلتے ہیں تو کانٹوں کو ہنسی آتی ہے
ایسے کھلنے پہ خزاؤں کو ہنسی آتی ہے
چاند کو دیکھ کے تاروں کو ہنسی آتی ہے
خود اجالوں پہ اجالوں کو ہنسی آتی ہے
حیف صد حیف کہ آیا ہے زمانہ کیسا
اب بزرگوں پہ جوانوں کو ہنسی آتی ہے
دور رہتے ہیں تو رہتے ہیں خفا ہم دونوں
آنکھ ملتی ہے تو دونوں کو ہنسی آتی ہے
پہلے ہنستے تھے تو خوشیوں پہ ہنسا کرتے تھے
اب تو ماتم پہ بھی لوگوں کو ہنسی آتی ہے
زندگی ایسی حقیقت ہے کہ جس پر ساقیؔ
تھوڑے روتے ہیں تو تھوڑوں کو ہنسی آتی ہے
ایسے کھلنے پہ خزاؤں کو ہنسی آتی ہے
چاند کو دیکھ کے تاروں کو ہنسی آتی ہے
خود اجالوں پہ اجالوں کو ہنسی آتی ہے
حیف صد حیف کہ آیا ہے زمانہ کیسا
اب بزرگوں پہ جوانوں کو ہنسی آتی ہے
دور رہتے ہیں تو رہتے ہیں خفا ہم دونوں
آنکھ ملتی ہے تو دونوں کو ہنسی آتی ہے
پہلے ہنستے تھے تو خوشیوں پہ ہنسا کرتے تھے
اب تو ماتم پہ بھی لوگوں کو ہنسی آتی ہے
زندگی ایسی حقیقت ہے کہ جس پر ساقیؔ
تھوڑے روتے ہیں تو تھوڑوں کو ہنسی آتی ہے
83764 viewsghazal • Urdu