قدم قدم ہے اک آفت شراب پیتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
قدم قدم ہے اک آفت شراب پیتے ہیں
کہ ہم نجات کی صورت شراب پیتے ہیں
تمام اہل سیاست کو خون پینے دو
چلو ہم اہل محبت شراب پیتے ہیں


جو زہر عقل بہت پی رہے ہیں شہر کے لوگ
تو آ ادھر مری وحشت شراب پیتے ہیں
ہوئی ہے خواب کی موت اور کوئی روتا نہیں
اٹھاؤ جام حقیقت شراب پیتے ہیں


نہیں بعید جو کل ہم بھی خون پینے لگیں
ابھی یہی ہے غنیمت شراب پیتے ہیں
74610 viewsghazalUrdu