قلم خاموش ہے الفاظ کی تاثیر بولے ہے
By rahbar-jaunpuriNovember 13, 2020
قلم خاموش ہے الفاظ کی تاثیر بولے ہے
ہماری صفحۂ قرطاس پر تحریر بولے ہے
خدارا اب مجھے آزاد کر دو قید پیہم سے
مچل کر پاؤں میں لپٹی ہوئی زنجیر بولے ہے
عجب معمار ہیں جن کی سمجھ میں یہ نہیں آتا
عمارت کتنی مستحکم ہے خود تعمیر بولے ہے
یہی محسوس ہوتا ہے اجنتا کی گپھاؤں میں
کہ ہر تصویر تو چپ ہے فن تصویر بولے ہے
حقیقت مٹ نہیں سکتی بدل دینے سے تاریخیں
ہر اک فن میں ہمارا حسن عالم گیر بولے ہے
کرشمہ یہ نہیں تو اور کیا ہے خون ناحق کا
ہماری بے گناہی پر یہاں شمشیر بولے ہے
خدا بندے سے کیا پوچھے وہاں اس کی رضا رہبرؔ
ہتھیلی کی لکیروں میں جہاں تقدیر بولے ہے
ہماری صفحۂ قرطاس پر تحریر بولے ہے
خدارا اب مجھے آزاد کر دو قید پیہم سے
مچل کر پاؤں میں لپٹی ہوئی زنجیر بولے ہے
عجب معمار ہیں جن کی سمجھ میں یہ نہیں آتا
عمارت کتنی مستحکم ہے خود تعمیر بولے ہے
یہی محسوس ہوتا ہے اجنتا کی گپھاؤں میں
کہ ہر تصویر تو چپ ہے فن تصویر بولے ہے
حقیقت مٹ نہیں سکتی بدل دینے سے تاریخیں
ہر اک فن میں ہمارا حسن عالم گیر بولے ہے
کرشمہ یہ نہیں تو اور کیا ہے خون ناحق کا
ہماری بے گناہی پر یہاں شمشیر بولے ہے
خدا بندے سے کیا پوچھے وہاں اس کی رضا رہبرؔ
ہتھیلی کی لکیروں میں جہاں تقدیر بولے ہے
69169 viewsghazal • Urdu