رات کو درکار تھا کچھ داستانی رنگ کا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
رات کو درکار تھا کچھ داستانی رنگ کا
ہم چراغ خامشی لائے زبانی رنگ کا
اس نے پیشانی ہمیں دی ہے زمینی رنگ کی
اور سجدہ چاہتا ہے آسمانی رنگ کا
گیہویں پن نے نکلوایا تھا جنت سے ہمیں
جان من اب کے کریں گے عشق دھانی رنگ کا
عشق نے تو میرا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا
ایسا آئینہ دکھایا اس نے سانی رنگ کا
ہم محبت کرنے والوں کی ضدیں بھی ہیں عجیب
چاہئے اک واقعہ لیکن کہانی رنگ کا
شاید اب اکتا گئے صحرا نوردی سے غزال
چاہتے ہیں کوئی ویرانہ مکانی رنگ کا
فرحت احساسؔ اس کی مٹی کی سماعت کھل اٹھی
شعر جب میں نے سنایا تیرا پانی رنگ کا
ہم چراغ خامشی لائے زبانی رنگ کا
اس نے پیشانی ہمیں دی ہے زمینی رنگ کی
اور سجدہ چاہتا ہے آسمانی رنگ کا
گیہویں پن نے نکلوایا تھا جنت سے ہمیں
جان من اب کے کریں گے عشق دھانی رنگ کا
عشق نے تو میرا چہرہ ہی بدل کر رکھ دیا
ایسا آئینہ دکھایا اس نے سانی رنگ کا
ہم محبت کرنے والوں کی ضدیں بھی ہیں عجیب
چاہئے اک واقعہ لیکن کہانی رنگ کا
شاید اب اکتا گئے صحرا نوردی سے غزال
چاہتے ہیں کوئی ویرانہ مکانی رنگ کا
فرحت احساسؔ اس کی مٹی کی سماعت کھل اٹھی
شعر جب میں نے سنایا تیرا پانی رنگ کا
84772 viewsghazal • Urdu