رنگ برنگے نقش ابھر کر تیر رہے ہیں پانی پر

By wasim-nadirJanuary 5, 2024
رنگ برنگے نقش ابھر کر تیر رہے ہیں پانی پر
چاند نے اپنی مہر لگا دی دریا کی پیشانی پر
تم کیا جانو تم کیا سمجھو عشق اسی کو کہتے ہیں
ہم نے اپنی عمر گزاری کیسے ایک کہانی پر


آخر میں نے خون سے اپنے وہ تصویر مکمل کی
کب تک بے بس بیٹھا رہتا رنگوں کی من مانی پر
نسلیں وحشی ہو جاتی ہیں یار حفاظت کرنے میں
خوش ہونے کی بات نہیں ہے صحرا کی سلطانی پر


کب تک کھنڈر اپنی کہانی ہمیں سنائے گا نادرؔ
کب تک آنکھیں جمی رہیں گی دیکھیں اس ویرانی پر
90317 viewsghazalUrdu