رنج و غم حیات کا عنواں نہیں ہوں میں

By betab-amrohviFebruary 26, 2024
رنج و غم حیات کا عنواں نہیں ہوں میں
کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ انساں نہیں ہوں میں
شمع فراز طور درخشاں نہیں تو کیا
لیکن غلط کہ غیرت یزداں نہیں ہوں میں


اے خضر راہ تیری ضرورت نہیں مجھے
ناواقف تلاطم و طوفاں نہیں ہوں میں
اڑ جاؤں گرد پا کی طرح کارواں کے ساتھ
اتنا سبک تو گردش دوراں نہیں ہوں میں


مجھ کو بھی تیرے پیار کا سودا تو ہے مگر
تر آستین و چاک گریباں نہیں ہوں میں
20529 viewsghazalUrdu