روشنی ختم کرو کام ہوا چاہتا ہے

By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
روشنی ختم کرو کام ہوا چاہتا ہے
دشمن دل بھی بس اب رام ہوا چاہتا ہے
لوگ پہچان کے کرتے ہیں کنارہ گیری
آپ کہتے ہیں میاں نام ہوا چاہتا ہے


تیرگی رات کی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
اور مرا جسم سبک گام ہوا چاہتا ہے
کیسۂ زر بھی کسی کام نہ آیا تیرے
پختہ ایمان تھا جو خام ہوا چاہتا ہے


قتل ناحق کو اوڑھانا کوئی دینی جامہ
شہر بیداد میں اب عام ہوا چاہتا ہے
غور سے دیکھ ترے جھوٹے خدا کا چہرہ
سرخیٔ خوں سے سیہ فام ہوا چاہتا ہے


ہجرتیں عام کرو حبس کا دور آیا ہے
قول انصاف بھی دشنام ہوا چاہتا ہے
43572 viewsghazalUrdu