سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہے

By chand-kakralviJanuary 19, 2024
سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہے
شراروں سے گزرنا پڑ رہا ہے
فضائیں تو معطر ہو رہی ہیں
گلابوں کو بکھرنا پڑ رہا ہے


کسی کو زندگی دینے کی خاطر
ہمیں ہر روز مرنا پڑ رہا ہے
بدن میں ہیں ہزاروں زخم پھر بھی
سمندر میں اترنا پڑ رہا ہے


جہاں چلتے ہوئے جلتے ہیں تلوے
وہاں ہم کو ٹھہرنا پڑ رہا ہے
شکم سے باندھ کر شاعر کے پتھر
غزل کا پیٹ بھرنا پڑ رہا ہے


42489 viewsghazalUrdu