سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے
By wasim-nadirJanuary 5, 2024
سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے
کئی کہانیاں ہم ان میں چھوڑ آئے تھے
میں ان پرندوں کو روتا ہوں جو فلک کے لیے
زمیں سے اپنا تعلق ہی توڑ آئے تھے
کوئی ملال ہمیں اب رلا نہیں سکتا
ہم ایک درد پہ آنکھیں نچوڑ آئے تھے
سوال سوکھے ہوئے آنسوؤں کا الجھا رہا
حساب ویسے تو ہم سارا جوڑ آئے تھے
غبار چھا گیا ہر چیز پر تو حیرت کیا
دریچے بھی تو کھلے ہم ہی چھوڑ آئے تھے
کئی کہانیاں ہم ان میں چھوڑ آئے تھے
میں ان پرندوں کو روتا ہوں جو فلک کے لیے
زمیں سے اپنا تعلق ہی توڑ آئے تھے
کوئی ملال ہمیں اب رلا نہیں سکتا
ہم ایک درد پہ آنکھیں نچوڑ آئے تھے
سوال سوکھے ہوئے آنسوؤں کا الجھا رہا
حساب ویسے تو ہم سارا جوڑ آئے تھے
غبار چھا گیا ہر چیز پر تو حیرت کیا
دریچے بھی تو کھلے ہم ہی چھوڑ آئے تھے
77517 viewsghazal • Urdu