ساحل پہ کوئی ڈوب کے ابھرا نہ دوبارا

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
ساحل پہ کوئی ڈوب کے ابھرا نہ دوبارا
دریا سے بلا خیز ہے گرداب کنارا
ہر شخص کو اب چاہیے دولت کا سہارا
ہم ہیں کہ جو کرتے ہیں محبت پہ گزارا


تڑپا کے تمہیں نے مجھے بیدار کیا ہے
ٹھکرا کے تمہیں نے مجھے چاہت پہ ابھارا
محتاط نگاہوں سے ہر اک پھول کو دیکھوں
ڈرتا ہوں کہ چبھ جائے نہ آنکھوں میں نظارا


دستور زباں بندی کا عالم بھی عجب ہے
کہنی ہو کوئی بات تو کرتے ہیں اشارا
گھر کوئی سلامت ہے نہ سر کوئی سلامت
اے دوست یہی شہر محبت ہے تمہارا


اک روز تو یہ تم کو بتانا ہی پڑے گا
کس جرم کی پاداش میں عرفانؔ کو مارا
42553 viewsghazalUrdu