سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئے
By chand-kakralviJanuary 19, 2024
سمجھ رہے تھے کہ بادل ہیں سر پہ چھائے ہوئے
مگر غبار پہ نظریں تھے ہم جمائے ہوئے
تمام رات الاؤ پہ کاٹنے کے لئے
سنے گئے کئی قصے سنے سنائے ہوئے
جھلس رہا ہے بدن دھوپ کی تمازت سے
امید سوکھے درختوں سے ہیں لگائے ہوئے
ادا نہ کر سکے ہم قرض تیری چاہت کا
تری گلی سے گزرتے ہیں سر جھکائے ہوئے
وہ جن کی خون پسینے سے آبیاری کی
انہیں درختوں کے حاصل ہمیں نہ سائے ہوئے
وہ کیا سمجھتے اجالوں کی اہمیت اے چاندؔ
جنہیں چراغ ملے تھے جلے جلائے ہوئے
مگر غبار پہ نظریں تھے ہم جمائے ہوئے
تمام رات الاؤ پہ کاٹنے کے لئے
سنے گئے کئی قصے سنے سنائے ہوئے
جھلس رہا ہے بدن دھوپ کی تمازت سے
امید سوکھے درختوں سے ہیں لگائے ہوئے
ادا نہ کر سکے ہم قرض تیری چاہت کا
تری گلی سے گزرتے ہیں سر جھکائے ہوئے
وہ جن کی خون پسینے سے آبیاری کی
انہیں درختوں کے حاصل ہمیں نہ سائے ہوئے
وہ کیا سمجھتے اجالوں کی اہمیت اے چاندؔ
جنہیں چراغ ملے تھے جلے جلائے ہوئے
19252 viewsghazal • Urdu