سامنے ہو تو بس اشارہ کر

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
سامنے ہو تو بس اشارہ کر
وہ چلا جائے تو پکارا کر
آیا کیوں تھا پرائی محفل میں
اپنی تنہائی سے گزارہ کر


اس نے دل سے نہیں کیا ہے معاف
آخری جرم ہے دوبارہ کر
تجھ کو دربار میں بھی رہنا ہے
شاہؔ کی شاعری گوارہ کر


کب تلک دوسروں سے لپٹے گا
اپنی جانب بھی اک اشارہ کر
تو پلا دیتا ہے ہمیں جو شراب
تو ہی اس کا نشہ اتارا کر


برتی ہیں مہربانیاں جس کی
اس کی مجبوری بھی گوارہ کر
80724 viewsghazalUrdu