سامنے تیز ہواؤں کے جو اڑ جائے گا

By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
سامنے تیز ہواؤں کے جو اڑ جائے گا
وہ شجر دیکھنا اک روز اکھڑ جائے گا
صاف گوئی کسے کہتے ہیں بتاؤں گا اسے
واسطہ مجھ سے جو آئینے کا پڑ جائے گا


کیا خبر تھی کہ ترے شہر میں آ کر کوئی
داغ رسوائی ترے ماتھے پہ جڑ جائے گا
تو برے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کر لے
ورنہ آفات کے دلدل میں تو گڑ جائے گا


یہ تو شیطاں کے گماں میں بھی نہ ہوگا عالمؔ
اس قدر آج کا انسان بگڑ جائے گا
12627 viewsghazalUrdu