سر سبک باری سے کوئی در پہ خم ہونے کو ہے
By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
سر سبک باری سے کوئی در پہ خم ہونے کو ہے
خاک کا پتلا ہے زیر خاک ضم ہونے کو ہے
ایک صحرا جو نمی کی جنس سے واقف نہیں
میرے اشکوں کی فراوانی سے نم ہونے کو ہے
آسمانوں سے صدائیں آ رہی ہیں دم بہ دم
معجزہ ہونے کو ہے اب کوئی دم ہونے کو ہے
عرش محو یاس ہے اور کہہ رہا ہے اک ملک
قد آدم گھٹ چکا ہے اور کم ہونے کو ہے
اک سروری کیفیت یکسر مزہ دیتی نہیں
جو خوشی کل تک خوشی تھی آج غم ہونے کو ہے
کیا بہار و خشک سالی کیا عروج اور کیا زوال
کل زمین و آسماں مجھ کو بہم ہونے کو ہے
کر دئے مسمار میں نے سب بتان آذری
بت کدہ اب آن میں مثل حرم ہونے کو ہے
مطلع ہستی غبار آلود تھا کیوں صاف ہے
دل مکرر کہہ رہا چشم کرم ہونے کو ہے
اک نظر اس سمت دیکھو حال دنیا جان لو
آنکھ پیالہ پیر کا اب جام جم ہونے کو ہے
اے فقیہان حرم اے مفتیان کج روش
بوالہوس جو کل تھا اب وہ محترم ہونے کو ہے
خاک کا پتلا ہے زیر خاک ضم ہونے کو ہے
ایک صحرا جو نمی کی جنس سے واقف نہیں
میرے اشکوں کی فراوانی سے نم ہونے کو ہے
آسمانوں سے صدائیں آ رہی ہیں دم بہ دم
معجزہ ہونے کو ہے اب کوئی دم ہونے کو ہے
عرش محو یاس ہے اور کہہ رہا ہے اک ملک
قد آدم گھٹ چکا ہے اور کم ہونے کو ہے
اک سروری کیفیت یکسر مزہ دیتی نہیں
جو خوشی کل تک خوشی تھی آج غم ہونے کو ہے
کیا بہار و خشک سالی کیا عروج اور کیا زوال
کل زمین و آسماں مجھ کو بہم ہونے کو ہے
کر دئے مسمار میں نے سب بتان آذری
بت کدہ اب آن میں مثل حرم ہونے کو ہے
مطلع ہستی غبار آلود تھا کیوں صاف ہے
دل مکرر کہہ رہا چشم کرم ہونے کو ہے
اک نظر اس سمت دیکھو حال دنیا جان لو
آنکھ پیالہ پیر کا اب جام جم ہونے کو ہے
اے فقیہان حرم اے مفتیان کج روش
بوالہوس جو کل تھا اب وہ محترم ہونے کو ہے
63467 viewsghazal • Urdu