شاید میں اپنے جسم سے باہر نکل گیا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
شاید میں اپنے جسم سے باہر نکل گیا
کیوں ورنہ میرے دل سے مرا ڈر نکل گیا
ساحل پہ ڈھونڈھتی رہی میری خودی مجھے
دریائے بے خودی مجھے لے کر نکل گیا
اکثر ہم اس کے وقت مقرر پہ مر نہ پائے
اکثر ہمارا وقت مقرر نکل گیا
میں نے مکاں کو اتنا سجایا کہ ایک دن
تنگ آ کے اس مکاں سے مرا گھر نکل گیا
منظر وہ سامنے تھا کہ آنکھیں تھیں وجد میں
پھر عین وجد میں ہی وہ منظر نکل گیا
کیوں ورنہ میرے دل سے مرا ڈر نکل گیا
ساحل پہ ڈھونڈھتی رہی میری خودی مجھے
دریائے بے خودی مجھے لے کر نکل گیا
اکثر ہم اس کے وقت مقرر پہ مر نہ پائے
اکثر ہمارا وقت مقرر نکل گیا
میں نے مکاں کو اتنا سجایا کہ ایک دن
تنگ آ کے اس مکاں سے مرا گھر نکل گیا
منظر وہ سامنے تھا کہ آنکھیں تھیں وجد میں
پھر عین وجد میں ہی وہ منظر نکل گیا
77167 viewsghazal • Urdu