شدت سے مجھ سے ہاتھ چھڑانے کے باوجود
By ankit-mauryaFebruary 5, 2024
شدت سے مجھ سے ہاتھ چھڑانے کے باوجود
تھوڑا سا رہ گیا ہے وہ جانے کے باوجود
اپنے سفر کے وقت میں تنہا ہی رہ گیا
اک عمر دوستوں پہ لٹانے کے باوجود
کوئی سوال زندگی کا ہل نہیں ہوا
پڑھنے میں ساری عمر گنوانے کے باوجود
اپنا ہم ایک شخص اکٹھا نہ کر سکے
اپنوں کے بیچ شور مچانے کے باوجود
لیلیٰ نہیں ملی سو میں مجنوں نہ بن سکا
صحرا میں خوب خاک اڑانے کے باوجود
حیرت ہے میرے ہاتھ سلامت ہیں اب تلک
شعلہ بدن کو ہاتھ لگانے کے باوجود
تھوڑا سا رہ گیا ہے وہ جانے کے باوجود
اپنے سفر کے وقت میں تنہا ہی رہ گیا
اک عمر دوستوں پہ لٹانے کے باوجود
کوئی سوال زندگی کا ہل نہیں ہوا
پڑھنے میں ساری عمر گنوانے کے باوجود
اپنا ہم ایک شخص اکٹھا نہ کر سکے
اپنوں کے بیچ شور مچانے کے باوجود
لیلیٰ نہیں ملی سو میں مجنوں نہ بن سکا
صحرا میں خوب خاک اڑانے کے باوجود
حیرت ہے میرے ہاتھ سلامت ہیں اب تلک
شعلہ بدن کو ہاتھ لگانے کے باوجود
52653 viewsghazal • Urdu