ستم رسیدہ ہوں مجھ پر وہ ارتکاز کرے

By abdullah-saqibJanuary 6, 2024
ستم رسیدہ ہوں مجھ پر وہ ارتکاز کرے
پئے وصال مناہی کا ٹک جواز کرے
سیاہ رات جدائی کا زخم دے جائے
صریر خامہ صداؤں سے دل گداز کرے


نگاہ دل کو اسے دیکھنے کی جلدی ہے
علی التمام نہ آئے پہ نیم باز کرے
اسے کہو نہ کرے ان پہ مدعا ظاہر
اسے کہو کہ رقیبوں سے احتراز کرے


اسے کہو کہ تعلق میں مخلصی برتے
وفا سرشت و فریبی میں امتیاز کرے
مری طلب تو بس اتنی ہے محتسب صاحب
مری طرف بھی وہ پل کو نگاہ ناز کرے


28904 viewsghazalUrdu