سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک

By a.r-sahil-'aleeg'January 18, 2024
سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک
بھگو کر شاہ رکھے گا لہو میں آستیں کب تک
کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں
ابھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک


بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا
کسی کے جھوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک
رکھے گا وقت ان کے روبرو بھی آئنہ اک دن
جہاں کے عیب ہی دیکھا کریں گے نکتہ چیں کب تک


نگاہوں سے ہی وہ ہر شخص کو کافر بنا دے گا
بچے گی یہ ہوس کے سائے سے روئے زمیں کب تک
نہ جانے کب رہا اس قید سے ہم ہوں گے اے ساحلؔ
ستائیں گے ہماری زیست کو یہ کفر و دیں کب تک


66647 viewsghazalUrdu