سوز غم کو باعث تسکین جاں کیسے کہیں
By birj-lal-raanaFebruary 26, 2024
سوز غم کو باعث تسکین جاں کیسے کہیں
موج صرصر کو نسیم گلفشاں کیسے کہیں
جو ستم پیشہ ہے کیا اس کے کرم کا اعتبار
ناوک خونیں کو شاخ آشیاں کیسے کہیں
یہ شراب و شعر و نغمہ یہ جوانی یہ جمال
عمر فانی کو متاع رائیگاں کیسے کہیں
جس کو ہو کانٹوں سے نفرت پھول ہوں جس کو عزیز
اس کو گلشن کا حقیقی باغباں کیسے کہیں
جس کے تنکے کر رہے ہوں بجلیوں سے سازباز
اس نشیمن کو فروغ گلستاں کیسے کہیں
جو حقیقت ہے اسے باطل سمجھ لیں کس طرح
کارواں کو ہم غبار کارواں کیسے کہیں
ہر کلی میں بیکلی ہر پھول میں پژمردگی
اس خزاں کو ہم بہار جاوداں کیسے کہیں
آنسوؤں پر آہ پر نالوں پہ ہیں پابندیاں
بے زباں اب درد دل کی داستاں کیسے کہیں
زندگانی اک مسلسل کشمکش کا نام ہے
زندگانی کو سکون قلب و جاں کیسے کہیں
ایک دو افراد کے ملنے سے کب بنتی ہے قوم
ایک دو قطروں کو بحر بیکراں کیسے کہیں
زندگانی اک حقیقت ہے نہیں یہ وہم و خواب
آگ ہے یہ آگ ہے اس کو دھواں کیسے کہیں
دور آزادی میں رعناؔ سوز محکومی کہاں
صبح صادق کو اندھیرے کا سماں کیسے کہیں
موج صرصر کو نسیم گلفشاں کیسے کہیں
جو ستم پیشہ ہے کیا اس کے کرم کا اعتبار
ناوک خونیں کو شاخ آشیاں کیسے کہیں
یہ شراب و شعر و نغمہ یہ جوانی یہ جمال
عمر فانی کو متاع رائیگاں کیسے کہیں
جس کو ہو کانٹوں سے نفرت پھول ہوں جس کو عزیز
اس کو گلشن کا حقیقی باغباں کیسے کہیں
جس کے تنکے کر رہے ہوں بجلیوں سے سازباز
اس نشیمن کو فروغ گلستاں کیسے کہیں
جو حقیقت ہے اسے باطل سمجھ لیں کس طرح
کارواں کو ہم غبار کارواں کیسے کہیں
ہر کلی میں بیکلی ہر پھول میں پژمردگی
اس خزاں کو ہم بہار جاوداں کیسے کہیں
آنسوؤں پر آہ پر نالوں پہ ہیں پابندیاں
بے زباں اب درد دل کی داستاں کیسے کہیں
زندگانی اک مسلسل کشمکش کا نام ہے
زندگانی کو سکون قلب و جاں کیسے کہیں
ایک دو افراد کے ملنے سے کب بنتی ہے قوم
ایک دو قطروں کو بحر بیکراں کیسے کہیں
زندگانی اک حقیقت ہے نہیں یہ وہم و خواب
آگ ہے یہ آگ ہے اس کو دھواں کیسے کہیں
دور آزادی میں رعناؔ سوز محکومی کہاں
صبح صادق کو اندھیرے کا سماں کیسے کہیں
58383 viewsghazal • Urdu