صبح آئی بھی تو کہروں میں اضافہ ہو گیا
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
صبح آئی بھی تو کہروں میں اضافہ ہو گیا
نیند کیا ٹوٹی کہ خوابوں میں اضافہ ہو گیا
بے ضمیری کے اضافوں میں اضافہ ہو گیا
یعنی چلتی پھرتی لاشوں میں اضافہ ہو گیا
ہو چکا ہے جیسے در پردہ قیامت کا نزول
زندگانی کے عذابوں میں اضافہ ہو گیا
گھر سے گھبرا کر زمانہ آ گیا میدان میں
ہم نے یہ سمجھا کہ میلوں میں اضافہ ہو گیا
کل یہاں امرود کا اک باغ تھا وہ کیا ہوا
اب یہاں کیوں کر ببولوں میں اضافہ ہو گیا
درد سے فرصت ملی تو آئنے چبھنے لگے
زخم بھر جانے سے داغوں میں اضافہ ہو گیا
کھیت کی مٹی وہی ہے ابر باراں بھی وہی
کی گئی محنت تو فصلوں میں اضافہ ہو گیا
ناچنے گانے لگے مزدور ہر دکھ بھول کر
اجرتوں کے چند سکوں میں اضافہ ہو گیا
کیوں نہ ہو بارش میں اپنی خوش لباسی داغدار
گاڑیوں کے ساتھ چھینٹوں میں اضافہ ہو گیا
پیڑ سونا ہو گیا کچھ دیر کی خاطر تو کیا
کٹ گئیں شاخیں تو شاخوں میں اضافہ ہو گیا
کیا کروں عرفانؔ کعبے کا میں اب الٹا طواف
وجد کی حالت میں پھیروں میں اضافہ ہو گیا
نیند کیا ٹوٹی کہ خوابوں میں اضافہ ہو گیا
بے ضمیری کے اضافوں میں اضافہ ہو گیا
یعنی چلتی پھرتی لاشوں میں اضافہ ہو گیا
ہو چکا ہے جیسے در پردہ قیامت کا نزول
زندگانی کے عذابوں میں اضافہ ہو گیا
گھر سے گھبرا کر زمانہ آ گیا میدان میں
ہم نے یہ سمجھا کہ میلوں میں اضافہ ہو گیا
کل یہاں امرود کا اک باغ تھا وہ کیا ہوا
اب یہاں کیوں کر ببولوں میں اضافہ ہو گیا
درد سے فرصت ملی تو آئنے چبھنے لگے
زخم بھر جانے سے داغوں میں اضافہ ہو گیا
کھیت کی مٹی وہی ہے ابر باراں بھی وہی
کی گئی محنت تو فصلوں میں اضافہ ہو گیا
ناچنے گانے لگے مزدور ہر دکھ بھول کر
اجرتوں کے چند سکوں میں اضافہ ہو گیا
کیوں نہ ہو بارش میں اپنی خوش لباسی داغدار
گاڑیوں کے ساتھ چھینٹوں میں اضافہ ہو گیا
پیڑ سونا ہو گیا کچھ دیر کی خاطر تو کیا
کٹ گئیں شاخیں تو شاخوں میں اضافہ ہو گیا
کیا کروں عرفانؔ کعبے کا میں اب الٹا طواف
وجد کی حالت میں پھیروں میں اضافہ ہو گیا
80497 viewsghazal • Urdu